سیاسی ، فرهنگی ، اجتماعی ، اقتصادی
سنیچر سے شروع ہونے والے اجلاس میں زیاد وقت کراچی میں بارہ مئی کو پیش آنے والے واقعہ کے حوالے سے بحث کی گئی۔ ایک تعزیتی قرار داد میں حزب اختلاف کے اراکین نے کراچی کے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے جذباتی تقریر میں کہا کہ کراچی صرف ایک جماعت کا نہیں بلکہ سندھیوں بلوچوں اور پشتونوں سب کا ہے لیکن حکمرانوں کی ایما پر یہ سب کھیل کھیلا گیا۔بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچ اگر اپنے حقوق مانگتے ہیں تو انہیں دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے لیکن جو جماعت دہشت گردی میں ملوث ہے اسے کچھ نہیں کہا جا رہا۔
اس واقعہ کے خلاف حزب اختلاف کے اراکین نے علامتی واک آؤٹ کیا لیکن جمعیت علماء اسلام کے وزراء نے احتجاج میں حزب اختلاف کا ساتھ نہیں دیا۔ ادامه در :http://www.marzeporgohar.mihanblog.com/More-54.ASPX